May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu, left, takes a seat before his meeting with France's Foreign Minister Stephane Sejourne, right, in Jerusalem Monday, Feb. 5, 2024. 5, 2024. (Gil Cohen-Magen/Pool via AP)

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی کیمپس میں پھیلنے والے فلسطینی حامی مظاہروں کو روکنے کے لیے “مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے”۔

انہوں نے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں کہا، “امریکہ کے کالج کیمپس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہولناک ہے۔” اور انہوں نے سرکردہ یونیورسٹیوں پر “یہود دشمن ہجوم”کے قبضے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا، “یہ غیر انسانی ہے۔ اسے روکنا ہوگا۔ اس کی مذمت ہونی چاہیے اور نہایت واضح طور پر ہونی چاہیے۔ کئی یونیورسٹی صدور کا ردِعمل شرمناک تھا۔ اب خوش قسمتی سے ریاستی، مقامی اور وفاقی حکام میں سے کئی لوگوں نے مختلف انداز میں جواب دیا ہے لیکن مزید کام ہونا چاہیے۔ مزید کچھ کرنا ہے۔”

غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مظاہروں نے حالیہ ہفتوں میں امریکی کیمپس میں شدت اختیار کر لی ہے جب کہ غزہ کی جنگ اب ساتویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔

فلسطینی حامی مظاہرین نے جنگ بندی اور اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ ان کی یونیورسٹیاں اسرائیل سے تعلقات رکھنے والی کمپنیوں سے علیحدگی اختیار کریں۔ درجنوں طلباء کی شناخت بطورِ سزا اعلانیہ ظاہر کر دی گئی، کئی طلباء کو یونیورسٹی نے معطل کر دیا اور پولیس نے گرفتار کر لیا۔

کچھ یہودی اور اسرائیلی طلباء اور اساتذہ نے کہا ہے کہ مظاہروں نے یونیورسٹیوں کو ایک مخالفانہ ماحول میں تبدیل کر دیا ہے جہاں انہیں خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ بعض نے کیمپس میں یہود دشمنی میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ کچھ یہودیوں نے بھی جنگ مخالف مظاہروں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے جن میں جیوش وائس فار پیس جیسے گروپ شامل ہیں جس نے کچھ مظاہروں کی قیادت کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *