May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

سکیورٹی کے فورل پروف انتظامات، موبائل فون سروس معطل، شہریوں کو ملاہیبت اللہ سے ملنے سے روک دیا گیا

لم تنشر سوى صورة واحدة لزعيم طالبان هبة الله اخوندزاده وهو يعتمر عمامة وبلحية

افغان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طالبان سربراہا ملا ہیبت اللہ جو عوامی مقامات پر شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں نے بدھ کے روز جنوبی افغانستان میں طالبان کے گڑھ قندھار میں ہزاروں نمازیوں کے ساتھ عید الفطر کی نمازادا کی۔ انہوں نے اس موقعے پر نماز کی امامت کی۔

حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا کہ ’’رہبر معظم نے قندھار کی عید گاہ مسجد میں اپنے ہزاروں شہریوں کی عید الفطر کی نماز کی امامت کی‘‘۔

سال2016ء میں تحریک کے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ بہت کم عوامی سطح پرمنظرعام پر آئے ہیں۔ وہ زیادہ تر گم نامی کی زندگی گذارتےہیں۔

ایک عینی شاہد نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہاں موجود ہزاروں نمازی سکیورٹی اہلکاروں کی بہت زیادہ تعداد کی وجہ سے اخوندزادہ کو دیکھنے سے قاصر رہے۔

نمازیوں کو مسجد کی مرکزی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا لیکن وہ بیرونی مقامات پر جہاں لاؤڈ اسپیکرلگائے گئے نماز ادا کرنےمیں کامیاب رہے۔

اس موقعے پر ان کی صرف ایک تصویر شائع ہوئی تھی جس میں ان کی پگڑی اور لمبی سرمئی داڑھی دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ قندھار سے فرمان کے ذریعے ملک چلاتے جب کہ طالبان کی حکومت کابل میں قائم ہے۔

قندھار میں ہونے والے حملے کے تین ہفتے بعد ملک میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے رپورٹ کیا کابل میں انتہائی سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔

انٹیلی جنس اور پولیس یونٹوں نے ان صحافیوں کو دارالحکومت کی تقریباً چھ مساجد میں تصاویر یا ویڈیو ریکارڈنگ لینے سے روکا جہاں نمازی بڑی تعداد میں جمع تھے۔

مساجد میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے مردوں نے فٹ پاتھ یا سڑک پر نماز ادا کی۔ ایمبولینسز کو کئی مقامات پر اسٹینڈ بائی پر کھڑا کیا گیا تھا۔

کابل میں مسلح افراد کے زیر انتظام نئی چوکیاں قائم کی گئیں، جن میں پہلے سے ہی بڑی تعداد میں مانیٹرنگ مقامات شامل ہیں اور سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

عید کی نماز کے چند گھنٹے بعد واپسی سے قبل حفاظتی اقدام کے طور پر موبائل فون سروس منقطع کر دی گئی تھی۔

ہفتے کے روز اپنے تازہ پیغام میں انہوں نے افغانوں پر زور دیا کہ وہ اسلامی قانون پر عمل کریں۔ انہوں نے تمام ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کریں اور طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *