May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

آسٹریلیا مشرقی وسطیٰ میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دوسرے ملکوں کو قائل کرے گا۔ تاکہ مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دوسرے ملک آگے بڑھ سکیں۔ آسٹریلیا نے اس کے باوجود یہ کوشش کرنے کا عندیہ دیا ہے کہ مغربی ملکوں میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کی بات کرنا ایک طرح سےشجر ممنوعہ بن چکا ہے۔ جسے آج کی اصطلاحی زبان میں سفارتی ٹیبو کا نام دیا جا سکتا ہے۔

آسٹریلین وزیر خارجہ پینی ونگ نے اس بارے میں کہا ہے ‘فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے نتیجے میں امن آگے بڑھ سکتا ہے اور انتہا پسندی سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ ‘

انہوں نے کینبرا میں اپنے ایک خطاب میں کہا ‘فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کے ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کی بطور ریاست بھی سلامتی ممکن ہو جائے گی۔ اور اسی کے ذریعے ممکن ہے کہ فلسطینی عوام کو اپنی امنگوں کے پورا کرنے کا امکان نظر آ سکے گا۔

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ نے کہا ‘یہی ایک راستہ ہے جس سے خطے میں امن کی قوتوں کو تقویت مل سکتی ہے اور انتہا پسند قوتیں پسپا ہو سکتی ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا ‘فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں حماس اور ایران کے علاوہ ایران کی حمایت یافتہ باقی تنظیموں کو بھی ان کے تخریبی ایجنڈے کی وجہ سے کمزور کیا جا سکتا ہے۔

پچھلی کئی دہائیوں سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا معاملہ آگے بڑھتا نظر نہیں آرہا۔ بلکہ نظر آتا ہے کہ فلسطین کے معاملے کا انجام ہو چکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اسرائیل میں انتہا پسند نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت کا حکومت میں رہنا ہے۔

امریکہ، آسٹریلیا اور کئی یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے پہلے یروشلم کی حیثیت طے ہونا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *