May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
مفتي الديار المصرية السابق الدكتور علي جمعة

مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ اپنے روزانہ کے رمضان پروگرام کے ذریعے متعدد متنازعہ سوالات کے جوابات دیتے ہیں جو کہ مصری سیٹلائٹ چینلز پر نشر ہوتا ہے۔

اسکول کے طلباء کے کئی استفسارات کے جواب میں انہوں نے مزید کئی چھبتے سوالوں کے جواب دیئے۔

ان سے پوچھا گیا کہ آیا عیسائیوں کو ان کے مذہبی تہواروں اور کرسمس کے موقعے پر مبارک باد دی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ طلباء نےپوچھا کہ چرچ میں ہونے والی شادی میں شرکت کرنے اور اپنی عیسائی کولیگ کے سامنے اپنے بال کھولنے کا کیا حکم ہے؟۔

اس پر مفتی علی جمعہ نے کہا کہ”ہاں یہ عام بات ہے۔ عیسائیوں کو مبار باد دینے میں کوئی حرج نہیں۔

“محبت میں ساری دنیا محبت ہونی چاہیے”

انہوں نے مزید کہا کہ “خدا کی قسم بچو کبھی نہیں۔ پوری دنیا کو محبت میں پیار ہونا چاہیے۔ مصریوں نےاسلام قبول کیا تو انہوں نے ایسی مثالیں قائم کیں۔ ‘تم کیوں پھونکتے ہو؟ محبت، مبارکباد اور تعریفیں ہماری قدر میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس سے ہمارے قد کاٹھ میں کمی نہیں ہوتی۔ کوئی ہمسایہ اپنے ہمایوں سے جھگڑا چاہتا ہے؟۔ ہم 1500 سال سے پڑوسی ہیں اور ہم نفرت کا یہ تصور نہیں چاہتے۔

ایک چرچ میں عیسائی ساتھی کی منگنی میں شرکت کی اجازت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مفتی جمعہ نے کہا کہ یہ جائز ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عیسائی بھائی ان مواقع کو کیا کہتے ہیں۔ان کے معانی کی تحقیق کریں۔وہ اسے”آدھی چادر” کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

ایک عورت کے اپنی سہیلی کے سامنے اپنا حجاب کھولنے کےبارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “ہاں، یہ جائز ہے۔ ایک خاص مرحلے پر صلیبیوں کا حملہ ہوا کیونکہ وہ صلیب اٹھاتے ہوئے آئے تھے۔ صلیب ان سے بے قصور تھی۔ کشیدگی، جارحیت، قبضے اور مغربی فوجوں کی وجہ سے تھی جو مسلمانوں سے لڑنا چاہتے تھے، یہ معاملہ 200 سال تک جاری رہا۔ اس سے ایسے سوالات پیدا ہوئے، لیکن دین کی اصل اس کا تقاضا نہیں کرتی اس لیے یہ جائز ہے۔ مسلمان عورت غیر مسلم عورت کے سامنے اپنا حجاب کھول سکتی ہے۔

خیال رہے کہ رمضان کے دوران مصر کے سابق مفتی اعظم علی جمعہ کے متنازع فتووں نے عوامی حلقوں میں ہل چل پیدا کردی تھی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی آراء قرآن وسنت کی روشنی میں ہوتی ہیں۔

چند روز قبل انہوں نے کہا کہ کسی انسان کو اگر سور کے گردے سے زندگی مل سکتی ہےتو یہ جائز ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *