May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Senator Chris Coons (D-DE) attends a Senate Judiciary Committee hearing on voting rights on Capitol Hill in Washington, DC on April 20, 2021.

ایک سینئر امریکی قانون ساز اور صدر جو بائیڈن کے قریبی ساتھی نے کہا کہ اگر اسرائیل نے رفح میں پناہ گزینوں کے لیے منصوبے کے بغیر فوجی آپریشن کیا تو وہ فوجی امداد مشروط کرنے کے لیے ووٹ دے سکتے ہیں۔

امریکی سینیٹر کرس کونز نے اس سوال کہ امریکہ کب اسرائیل کو یہ بتائے کہ اسے اپنی فوجی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے یا امریکی فوجی امداد پر شرائط عائد ہونے کا خطرہ ہے، کے جواب میں کہا کہ “میرے خیال میں ہم اس نہج پر پہنچ گئے ہیں۔”

کونز نے کہا اگر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو وہاں موجود تقریباً 1.2 ملین فلسطینی شہریوں کو خاطر میں لائے بغیر اسرائیلی فوج کو رفح میں داخل ہونے کا حکم دے دیں تو وہ مشروط امداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔

کونز نے کہا، “میں اسرائیل کو امداد کی شرط پر ووٹ دوں گا۔ میں نے پہلے کبھی ایسا نہیں کہا۔ میں یہاں پہلے کبھی نہیں آیا ہوں۔ میں نے جب تک کانگریس میں خدمات انجام دیں میں اسرائیل کا مضبوط حامی رہا ہوں۔”

وہ تازہ ترین امریکی قانون ساز ہیں جنہوں نے سات اکتوبر کے حملے کے جواب میں غزہ پر اسرائیلی بمباری اور اسے ملبے میں تبدیل کرنے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حربوں سے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل نے 30,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے جس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے حماس کے مزاحمت کار تھے اور کتنے عام شہری۔

واشنگٹن اور بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے لیے اپنی حمایت پر قائم ہیں۔ وہ انہیں اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی بھی قسم کی مذمت یا مخالفت سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے اسی دن اسرائیل کو مزید ہزاروں بموں کی منظوری دی جب اسرائیلی فوج نے ورلڈ سینٹرل کچن کے انسانی امدادی کارکنان کے قافلے کو بار بار نشانہ بنایا۔ اس گروپ کے کم از کم سات کارکنان ہلاک ہو گئے جس کے بارے میں شیف جوز اینڈریس نے کہا کہ انہیں دانستہ نشانہ بنایا گیا۔

بائیڈن، امریکی محکمۂ خارجہ اور پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے اس مہلک حملے پر اسرائیلی فوج کی مذمت کی۔

جبکہ سینیٹر کونز نے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات جاری رکھے گا، انہوں نے ان ہتھکنڈوں پر افسوس کا اظہار کیا جو نیتن یاہو غزہ میں فیصلے کرنے کے لیے استعمال کیے۔

کونز نے کہا کہ امریکہ امداد پر شرائط عائد کرے گا، “میری رائے میں اگر اسرائیل شہریوں کے لیے کوئی انتظام کیے بغیر رفح میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری رکھے۔”

تاہم انہوں نے ہدفی چھاپوں، چھوٹے انسدادِ دہشت گردی یا خصوصی فورسز کے چھاپوں کا استعمال کرتے ہوئے حماس کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت میں آواز بلند کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *