April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
قيس سعيد والوزير المقال

تونس کے صدر قیس سعید نے وزیر تعلیم محمد علی البوغدیری کو ان کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے سلویٰ العباسی کی جگہ نئی وزیر مقرر کیا ہے۔ اس برطرفی کی وجوہات ظاہر نہیں کی گئیں۔

برطرف وزیر تعلیم جو تونس کی جنرل لیبر یونین کے رہ نما ہیں نے جنوری 2023ء کے آخر میں یہ عہدہ سنھبالا تھا جب کہ نئے وزیر تعلیم کی وزارت میں جنرل انسپکٹر آف سیکنڈری ایجوکیشن کے عہدے پر فائز تھے۔

ایوان صدر نے برطرفی کے فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ جعلی تعلیمی اسناد کے اسکینڈل کو قرار دیا رہا ہے۔ وزارت تعلیم کے ایک اہلکار پر اس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

سلویٰ العباسی وزارت تعلیم کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون ہیں جو ایک اہم وزارت ہے۔

وزارت تعلیم کے برطرف وزیرالبوغدری کے دور میں وزارت اور تعلیمی یونینوں کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا، جس نے اپنے مالی حالات کو بہتر بنانے کے مقصد سے حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے کئی ہڑتالیں کیں۔

البوغدیری کی ان کے عہدے سے برطرفی وزیر ٹرانسپورٹ ربیع المجیدی، وزیر ثقافت حیات قطاط القرمازی اور حساس سرکاری اداروں کے سربراہی کرنے والے دیگر اہلکاروں کی برطرفی کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔

تونس کے صدر قیس سعید نے وزیر تعلیم محمد علی البوغدیری کو ان کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے سلویٰ العباسی کی جگہ نئی وزیر مقرر کیا ہے۔ اس برطرفی کی وجوہات ظاہر نہیں کی گئیں۔

برطرف وزیر تعلیم جو تونس کی جنرل لیبر یونین کے رہ نما ہیں نے جنوری 2023ء کے آخر میں یہ عہدہ سنھبالا تھا جب کہ نئے وزیر تعلیم کی وزارت میں جنرل انسپکٹر آف سیکنڈری ایجوکیشن کے عہدے پر فائز تھے۔

ایوان صدر نے برطرفی کے فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ جعلی تعلیمی اسناد کے اسکینڈل کو قرار دیا رہا ہے۔ وزارت تعلیم کے ایک اہلکار پر اس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

سلویٰ العباسی وزارت تعلیم کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون ہیں جو ایک اہم وزارت ہے۔

وزارت تعلیم کے برطرف وزیرالبوغدری کے دور میں وزارت اور تعلیمی یونینوں کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا، جس نے اپنے مالی حالات کو بہتر بنانے کے مقصد سے حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے کئی ہڑتالیں کیں۔

البوغدیری کی ان کے عہدے سے برطرفی وزیر ٹرانسپورٹ ربیع المجیدی، وزیر ثقافت حیات قطاط القرمازی اور حساس سرکاری اداروں کے سربراہی کرنے والے دیگر اہلکاروں کی برطرفی کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *