April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Sikh separatist leader Gurpatwant Singh Pannun is pictured in his office on Wednesday, Nov. 29, 2023, in New York. U.S. authorities said an Indian government official directed a plot to assassinate Pannun in New York City after he advocated for a sovereign state for Sikhs. (AP)

بھارت میں تعینات امریکی سفیر نے کہا ہے کہ ‘امریکی شہریت کے حامل سکھ کے امریکہ میں قتل کےمنصوبے کے بے نقاب ہونے کے باوجود امریکہ بھارت تعلقات میں کمزورہ نہیں آئے گی۔

امریکہ اور بھارت لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور حقیقی طور پر طویل عرصے کے لئے تعلقات چاہتے ہیں۔ ‘امریکہ کے سفیر ایرک گریسیٹی نے اس امر کا اظہار بھارتی خبر رساں ادارے ‘ اے این آئی ‘کو ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

اتوار کے روز نشر ہونے والے انٹرویو میں سفیر نے کہا ‘ ہم بھارت کی طرف سے اس سلسلے میں ‘ کوآرڈینیشن’ سے مطمئن ہیں۔اس لئے ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی رخنہ پیدا ہو۔

واضح رہے ایک امریکی پراسیکیوٹر نے پچھلے سال بھارتی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک امریکی سکھ گورپتونت سنگھ پنوں کو امریکہ میں قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

گور پتونت سنگھ پنوں خالصتان کی آزادی کا حامی ہے اور بھارت نے اسے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔اسے ہی بھارت نے پچھلے سال امریکہ میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

اس بھارتی سازش کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسے ناکام بنا دیا تھا۔ تاہم گورپتونت سنگھ پنوں کے ایک ساتھی کی کینیڈا میں اسی طرح کے واقعے میں ہلاکت کا انکشاف ہوا تھا۔

بھارت نے بعد ازاں ان الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔ لیکن ابھی تک اس نے کمیٹی کے بارے میں کوئی تفصیلات عام نہیں کی ہیں، بشمول اس میں کون کون ہے یا تحقیقات کس طرح آگے بڑھ رہی ہیں۔ تاہم، معاملے سے واقف سینئر حکام، جنہوں نے نجی بات چیت کرنے کے لیے شناخت ظاہر نہ کرنے کا کہا’ حال ہی میں تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حکومت کی طرف سے اجازت نہ دینے والے دہشت گرد اس سازش میں ملوث تھے۔امریکہ اور بھارت دونوں نے اس واقعے کو اجاگر نہ کرتے ہوئے اپنی دو طرفہ اعلی سطح کی ملاقاتوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی سفیر نے کہا’ میں بہت خوش ہوں کہ بھارت نے انکوائری کے اس کمیشن میں سینئر لوگوں کو شامل کیا جو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تجربہ کار سمجھے جاتے ہیں، اور اس معاملے کی کھوج کر رہے ہیں تاکہ کسی ایسے ثبوت کو بے نقاب کیا جا سکے جس سے کرائے کے قاتلوں کا پتہ چل سکے۔

سازش میں بھارتی حکومت سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص شامل تھا، گرسیٹی نے ‘اے این آئی’ کو بتایا۔ سفیر کا مزید کہنا تھاکہ حکومتی حمایت یافتہ غیر ملکیوں کے ہاتھوں کسی بھی شخص کا قتل کسی بھی ملک کے لیے سرخ لکیر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘کوئی بھی حکومت یا سرکاری ملازم آپ کے اپنے ہی کسی شہری کے مبینہ قتل میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ یک ایک ناقابل قبول سرخ لکیر ہے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *