April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
یمن میں حوثی گروپ کے خلاف امریکی برطانوی کارروائی کا منظر

حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکی اور برطانوی طیاروں نے یمنی الحدیدہ گورنری کے الدریھمی ضلع میں طائف کے علاقے پر حملہ کیا۔ ٹی وی چینل نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان دنوں امریکہ اور برطانیہ حوثیوں کے ٹھکانوں پر براہ راست فضائی حملے کر رہے ہیں جس کا مقصد اس گروپ کی نیوی گیشن کی آزادی کو خطرے میں ڈالنا اور اس کی عالمی تجارت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں کئی بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے۔ حوثی گروپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آئزن ہاور پر سوار لیث ہزاری نے العربیہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ

طیارہ بردار بحری جہاز آئزن ہاور کے سٹرائیک گروپ کے کمانڈر ایڈمرل مارک میگیز نے تصدیق کی ہے کہ ان کی افواج کو حوثیوں کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔ حوثیوں نے نے بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں حوثیوں کے معاندانہ رویے میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جب بحری جہاز آئزن ہاور سے کو درپیش خطرات کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بلاشبہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی وجہ سے یہاں دشمنی کے خطرات کا سامنا ہے جنہوں نے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، فضائی حملے اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایئر کرافٹ کیریئر گروپس کو اس طرح کے خطرے کے خلاف دفاع کے لیے تربیت دی جاتی ہے اور ہم اس وقت تک کامیابی کے ساتھ دفاع برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ہمیں اس خطرے کی توقع نہیں تھی لیکن ہم ہمیشہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے جہاز بندرگاہ نورفولک سے 14 اکتوبر کو لانچ کیا اور اسے پہنچنے میں تقریباً ایک مہینہ لگا لیکن ہم یہاں بحیرہ احمر، خلیج عمان اور خلیج عرب میں نومبر سے موجود ہیں۔ اس کامطلب ہے ہم گزشتہ سال نومبر سے اس خطے میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری آمد سے پہلے وہ آزادانہ طور پر کام کر رہے تھے اور بغیر کسی جوابدہی کے جو چاہتے تھے کر رہے تھے۔ ان کی بدنیتی پر مبنی سرگرمیاں ہماری آمد تک جاری رہیں۔ میں نے ان طیاروں کے ذریعے جو میں نے سطح پر دیکھا اور ان تمام جہازوں کے ذریعے جو طیارہ بردار بحری جہاز کے گروپ کے ساتھ تھے یہ دیکھا کہ اس خطے میں اس وقت امریکی افواج اور اتحادی ملکوں کی افواج موجود ہیں۔ ان کی موجودگی کے ساتھ حوثی گروپ کے رویے اور سرگرمیوں میں کمی دیکھی ہے۔ ہمارے نقطہ نظر سے اس صورتحال کو ایک کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *