April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ہم نے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح غزہ میں انسانی بحران پر قابو پانا ہے اور فلسطینی ریاست کا قیام مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کی جانب ’واحد راستہ‘ ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے ہفتے کو میونخ سکیورٹی کانفرنس 2024 کے موقع پر ’مشرق وسطیٰ میں استحکام اور امن کی جانب: کشیدگی میں کمی کا چیلینج‘ کے عنوان سے پینل مباحثے میں شرکت کی۔

پینل مباحثے کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے غزہ کی پٹی میں سیزفائر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’پٹی میں رونما ہونے والی انسانی تباہی کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔‘

انہوں نے غزہ سے اسرائیلی قابض افواج کے انخلا اور وہاں کے عوام تک انسانی امداد کی رسائی بڑھانے پر زور دیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہم نے امریکیوں اور دوسروں پر واضح کر دیا ہے کہ ہمارے نقطہ نظر سے پہلی ترجیح غزہ میں انسانی بحران پر قابو پانا اور لڑائی کو روکنا ہے۔‘

اسرائیل کیساتھ تعلقات نہیں

میونخ سیکورٹی سمٹ میں سعودی وزیر خارجہ نے مصری وزیر خارجہ سامح شکری اور بیلجیئم کے وزیر خارجہ حجہ لحبیب کے ساتھ ایک مباحثے کے دوران مزید کہا کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں ہیں اور ہم اسرائیل سے براہ راست بات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کا انحصار عرب امن معاہدے کے نفاذ پر ہے۔

استحکام کا واحد راستہ

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے انخلاء پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ہمارا مکمل یقین ہے کہ اسرائیل سمیت خطے میں سلامتی اور استحکام کا واحد راستہ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے زیادہ محفوظ نہیں بنا رہا بلکہ یہ چیز نئی نسل کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل دے گی۔ انہوں نے کہا دو ریاستی حل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

کانفرنس کے دوران سعودی وزیر نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ’اسرائیل سمیت خطے میں سلامتی اور استحکام کا راستہ فلسطینی ریاست کے قیام سے نکل سکتا ہے۔‘انہوں نے عالمی برادری سے اس جانب توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

شہزادہ فیصل نے یہ اشارہ بھی دیا کہ مملکت سعودی عرب کی امریکہ کے ساتھ بات چیت میں فلسطینی کاز کے بہت سے نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ فوری ترجیح غزہ کی پٹی میں انسانی بحران سے نمٹنا، اور وہاں جاری لڑائی کو ختم کرنا، پٹی تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اسرائیلی قابض افواج کی اشتعال انگیزی عرب اور اسلامی ممالک کے جذبات کو لامحالہ مشتعل کرتی ہے، خاص طور پر جب جاری بحران کے نتیجے میں اموات کی تعداد 30 ہزار کے قریب پہنچ رہی ہے اور کم از کم 17 ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’غزہ کی پٹی میں انسانی مصائب کا سلسلہ جاری ہے، جس میں خوراک، پانی اور ادویات کی قلت شامل ہے، اور یہ کہ اسرائیل کی یہ اشتعال انگیزی دنیا بھر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نظریات کو تقویت دے سکتی ہے۔‘شہزادہ فیصل نے سکیورٹی کانفرنس میں کہا کہ ’اسرائیل کی سلامتی اور استحکام بھی فلسطین کی ریاست کے قیام پر منحصر ہے۔‘

مصر کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ

سمٹ میں مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ قاہرہ نے تل ابیب کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو رفح سے نکالنا ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے تباہ کن نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے کہا عالمی برادری کی مرضی کا فقدان ہی برسوں سے دو ریاستی حل میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اسرائیل کو متبادل فراہم کرنا چاہیے

بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ تجویز کرنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا غزہ کے موجودہ بحران کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل جب تک دو ریاستی حل کو مسترد کرتا ہے اس وقت تک اسے ایک متبادل حل پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا دو ریاستی حل مشرق وسطیٰ میں تنازع کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

غزہ کی تباہ کن صورتحال

یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے نمائندے جوزپ بوریل نے بتایا کہ انہوں نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے غزہ کی پٹی کی “تباہ کن” صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

بوریل نے ’’ ایکس‘‘ پلیٹ فارم پر کہا کہ انہوں نے سعودی وزیر کے ساتھ علاقائی سلامتی کی ضرورت اور دو ریاستی حل پر مشترکہ کام کے فریم ورک کے اندر اٹھائے جانے والے عملی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *