April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
FILE PHOTO: A European Union flag flutters outside the EU Commission headquarters, in Brussels, Belgium, February 1, 2023 REUTERS/Yves Herman/File Photo

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ہنگری کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ارکان نے غزہ میں فوری جنگی وقفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا مطالبہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کیا ہے۔

یورپی یونین نے سات اکتوبر سے مسلسل اسرائیل کی حمایت میں ایک متحدہ موقف اختیار کر رکھا ہے اور ہر اہم موقع یا مرحلے پر انہوں نے اسرائیل کی ہی مدد کی ہے، تاہم اب جبکہ غزہ میں فلسطینی بچوں اور عورتوں کی اکثریتی تعداد کے ساتھ 29 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، پورا غزہ تباہ ہو چکا اور غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے ان ملکوں نے سوائے ہنگری کے سب جنگ میں وقفہ چاہنے لگے ہیں۔

جوزپ بوریل نے کہا ‘ یورپی یونین کے 26 ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگی وقفہ کیا جائے اور یہ جنگی وقفہ بعد ازاں پائیدار ‘ سیز فائر ‘ میں تبدیل ہو جائے۔’

یورپی یونین کے رکن ممالک نے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا ہے کہ ‘اسرائیل رفح میں جنگی یلغار نہ کرے ، جو اس وقت غزہ کی نصف سے زیادہ بے گھر ہو چکی آبادی کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔’

تاہم یورپی یونین کے ایک رکن ہنگری نے دیگر تمام ارکان کے ساتھ ہم آواز ہونے سے انکار کیا ہے اور غزہ میں ساڑھے چار ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس سب کچھ کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کے دیگر تمام ارکان میں سے جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی صورت میں اسرائیل کے حق دفاع کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔

واضح رہے اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حماس 132 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرتا اسرائیل رفح پر اپنی بڑی جنگی یلغار کے ارادے سے پیچھے ہٹے گا نہ رمضان المبارک کی وجہ سے اپنی جنگ میں کوئی کمی یا وقفہ کرے گا۔ دوسری جانب حماس نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلاء کے بغیر یرغمالی رہا نہیں کیے جائیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *