April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

امریکہ کو جاسوسی کے الزام میں مطلوب آسٹریلوی شہری جولیان اسانج نے کئی سال قبل دنیا میں ‘ وکی لیکس ‘ کی وجہ سے شہرت پائی تھی اور امریکہ کو مطلوب ہونے کے بعد مسلسل کئی سال پہلے برطانیہ کے ایک سفارت خانے کی پناہ میں رہنے کے بعد اب پانچ سال سے جیل میں بند ہے ۔ وہ اس کے اہل خانہ خوف زدہ ہیں کے امریکہ کے حوالے کر دینے کا فیصلہ ہو گیا تو اس کی زندگی خطرے میں ہوگی۔

یہ بات جولیان اسانج کے بھائی نے ‘العربیہ ‘ کے رض خان کے ساتھ رابطے میں کی ہے۔ بھائی کا بالواسطہ کہنا ہے کہ برطانیہ سے امریکی حوالگی کا فیصلہ ہوا تو جیل میں انسانی حقوق کی نگہداشت اس طرح ممکن نہ رہے گی جس طرح کے برطانیہ میں انسانی حقوق اسے حاصل ہیں۔

بھائی کے مطابق مسلسل روپوشی اور جیل کی قید میں ہونے کے باوجود جولیان اسانج کا حوصلہ بلند ہے اور اس کے اندر اپنا کیس لڑنے کی ہمت موجود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں اسے اپنے اہلخانہ کے ساتھ رابطے اور ملاقات کا بنیادی انسانی حق بھی دیا گیا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ اور والد کے ساتھ فون پر بات کر لیتا ہے ، اسی طرح ملاقات کی بھی اجازت ہے۔ میں جب بھی برطانیہ جاتا ہوں جیل میں اپنے بھائی سے مل لیتا ہوں۔

اسانج کے بھائی گیبریل شپٹون نے کہا میں اب برطانیہ جارہا ہوں تو پھر اس سے ملاقات ہو گی۔ یہی چیز اس کی ہمت کو مرنے اور حوصلے کو گرنے نہیں دیتی ہے۔ یہ اس کے لیے ‘ لائف لائن ‘ ہے۔ گویا وہ زندہ ہے اور دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن امریکہ میں اسے یہ سب حقوق نہیں مل سکیں گے۔

ماہرین کی رائے میں بھی اس خدشے کا اظہار ہے کہ اگر اسانج کو امریکہ بھیجا گیا تو اس کی اپنے ہاتھوں یا کسی اور کے ہاتھوں جیل میں موت کا خطرہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی جیل میں اسے وہ سہولت اور تحفظ نہیں مل سکے گا جو اسے برطانیہ میں حاصل ہے۔ جیسا چیلسا ماننگ کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اس لیے اسانج کے لیے امریکی جیل کا نظام اس کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔

شپٹون نے اس سلسلے میں بڑی مثالیں دیتے ہوئے کہا ‘ امریکہ میں اس سے پہلے والے جاسوسں کے ساتھ جو ہو چکا ہے وہی اس کے ساتھ ہو گا۔ اس سلسلے میں شیپٹون نے امریکی جیلوں کے لیے بنائے گئے ایک نئے قانون کا بھی حوالہ دیا کہ ‘ سپیشل ایڈمینسٹریٹو مییرز’ کے تحت جیل میں بند افراد کے حقوق کس قدر محدود ہو گئے ہیں۔

امریکی جیلوں کا یہ قانون ‘ ایس اے ایم’ امریکی حکومت کو مواصلاتی رابطوں کو سختی سے روکنے کا حق دیتا ہے۔ واضح رہے یہ قانون 2001 میں نائن الیون کے بعد بنایا گیا تھا۔ ماننگ امریکی انٹیلی جنس کے تجزیہ کار تھے جنہوں نے لاکھوں خفیہ دستاویزات وکی لیکس کو دی تھیں۔ یہ خفیہ دستاویزات عراق اور افغانستان سے متعلق تھیں۔

چیلسا ماننگ کو قید تنہائی میں رکھا گیا، حتیٰ کہ اسے الف ننگا کر دیا گیا۔اسے کئی ماہ تک تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں براک اوباما نے بطور صدر مداخلت کی اور اس کی سزا میں 35 سال قید کی تحفیف ہو گئی۔

شیپٹون نے اسانج کے حوالے سے کیس کی ‘اپ ڈیٹس’ بھی فراہم کیں۔ 20 اور 21 فروری کو اس کے مقدمے کی سماعت اس کی امریکہ حوالگی کے تناظر میں بہت اہم ہو سکتی ہے۔ وہ کم از کم پچھلے 13 سال سے برطانیہ میں ہے شروع میں کئی سال ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لیے رہا،مگر اب پانچ سال سے برطانوی جیل میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *