April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Iranian missiles are seen at an underground of the new missile cite of Iran's Revolutionary Guards naval unit at an undisclosed location in Iran, March 15, 2021. (Reuters)

ایران نے روس کو روس کو زمین سے زمین پر مار کرنےوالے سینکڑوں طاقتور بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں۔ اس امر کی تصدیق بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کے لیے چھ مختلف ذرائع نے کی ہے۔ ایران کی طرف سے روس کو فراہم کیے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے نتیجے میں دو طرفہ فوجی تعاون مزید گہرا ہو گا۔ اتفاق سے دونوں ملکوں کے خلاف امریکہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تقریباً 400 میزائل جن میں سے 110 کی تعداد میں ایرانی ساختہ میزائل فتح قسم کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔ ان فتح قسم کے ایرانی میزائل ذوالفقاربھی شامل ہیں۔ اس امر کی تصدیق تین مختلف ایرانی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے۔ یہ میزائل زمین سے زمین پر 300 سے 700 کلو میٹر تک رینج رکھتے ہیں۔

ایرانی وزارت دفاع اور ایرانی پاسدارن انقلاب نے اس سلسلے میں کسی قسم کے تبصرے سے انکار نہیں کیا ہے۔ روسی وزیر دفاع نے بھی اس بارے میں فوری کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کی فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سرکاری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ایران نے روس کو میزائل فراہم کیے گئے ہیں۔ خصوصاً اتنی بڑی تعداد میں میزائل روس پہنچنے کی کوئی بات نہیں ہے۔

ذرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ میزائلوں سے بھری شپمنٹس سے ماہ جنوری کے آغاز میں روانہ کرنا شروع کی گئیں، جبکہ اس معاہدے کو پچھلے سال کے اواخر میں حتمی شکل دی گئی تھی۔ ایرانی فوجی ذمہ دار نے کہا ‘ کچھ میزائل بحیرہ کیسپئین کے راستے روس بھیجے ہیں۔ جبکہ اس کے علاوہ میزائل فضائی راستے سے بھجوائے گئے۔’

ایک اور ایرانی فوجی زمہ دار نے کہا ‘ ضرورت ہوئی تو مزید کھیپ بھی بھیجیں گے ہممارے لیے اسے چھپانے کی کوئی وجہ نہیں ہے ، ایک آزاد ملک کے طور پر ہم جس ملک کو چاہیں ہتھیار برآمد کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بھی اہم بات ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر میزائل اور ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجیز کی دوسروں کو منتقلی پر عائد پابندیاں ماہ اکتوبر میں ختم ہو گئی تھیں۔

البتہ امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے ایران کے خلاف عاید پابندیاں باقی رکھی گئی ہیں۔ اس کی وجہ روس اور مشرق وسطیٰ میں اپنے حامی عسکری گروپوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی ایرانی کوششیں تھیں۔ ایرانی میزائلوں کی روس کو فراہمی کو فراہمی کی تصدیق کرنے والے چوتے ذریعے کا کہنا ہے ‘روس کو ایران کی طرف سے حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں میزائل فراہم کیے گئے ہیں۔’

ادھر امریکہ کے قومی سلامتی کے لیے ترجمان جان کربی بے پچھلے ماہ کے شروع میں کہا تھا’ امریکہ کو اس بارے میں تشویش ہے کہ روس ایران سے کم فاصلے پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا سے بھی میزائل حاصل کرنے والا ہے۔’ امریکہ سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اہم ذمہ دار نے بتایا ہے ‘ روس کو میزائل فراہمی کے لیے بات چیت سے متعلق شواہد دیکھنے کا موقع ملا ہے تاہم ابھی روس تک میزائل بھجوانے کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔’ تاہم پینٹا گون نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ادھر یوکرین کے پراسیکیوٹر نے نے جمعہ کے روز کہا ہے ہ روس کو شمالی کوریا کی طرف سے میزائلوں کی فراہمی کے بعد یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ان کے میزائل میدان جنگ میں قابل بھروسہ نہیں ہیں۔ روس اور یوکرین دونوں نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *