April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
مجلس الأمن الدولي

رہاست ہائے متحدہ امریکہ نے منگل کے روز ایک بار پھر غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کیا ہے۔ جنگ بندی کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان انسانی بنیادوں پر فوری ‘سیز فائر’ کروایا جائے۔

الجزائر کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کے حق میں تیرہ ووٹ آئے جبکہ برطانیہ نے ووٹ کا استعمال نہیں کیا اور امریکہ نے اس کو ویٹو کر دیا۔ سات اکتوبر کے بعد سے اب تک جنگ بندی کے لیے پیش کردہ یہ تیسری قرارداد تھی جسے امریکہ نے ویٹو کیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے قرارداد کو تیسری بار ویٹو کرنے کے اختیار کا استعمال اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح پر ایک بڑی جنگی یلغار کی تیاری کر رہا ہے۔ رفح شہر میں اس وقت چودہ لاکھ فلسطینی غزہ کے مختلف علاقوں سے بے گھر ہو کر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کی مکمل تباہی کے مشن کے لیے اس مشن کو ضروری سمجھتا ہے تاہم اسرائیل کو اس نئی جنگی یلغار کے حوالے سے بیرونی دنیا کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ البتہ امریکی صدر جو بائیڈن نے رفح پر اسرائیلی یلغار کو قابل بھروسہ منصوبہ بندی کے ساتھ کرنے کی تاکید کی ہے۔

سلامتی کونسل میں منگل کے روز ویٹو کی گئی قرارداد کے متن میں فلسطینیوں کی غزہ سے جبری بے دخلی کی بھی مخالفت کی گئی نیز یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے۔

امریکہ نے پچھلے ہفتہ کے اختتام پر خبردار کیا تھا کہ الجیریا کی طرف سے پیش کردہ قرارداد قابل قبول نہیں ہے اس لیے اسے ویٹو کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی نائب سفیر رابرٹ ووڈ نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ سلامتی کونسل میں پیش کردہ یہ قرارداد زمین پر موجود حالات کو بہتر کرنے کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔ رابرٹ ووڈ کے مطابق سیز فائر کے لیے راستہ جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا جو اس وقت یرغمالیوں کے لیے کی جا رہی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کا کہنا ہے کہ امریکہ اس قرارداد کے برعکس ایک متبادل قراداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا متن اے ایف پی کے نمائندہ کی نظر سے گزرا ہے۔ امریکی قرارداد میں سیز فائر کا لفظ شامل نہیں کیا گیا جیسے کہ امریکہ نے گزشتہ قراردادوں میں بھی سیز فائر کی حمایت نہیں کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *