April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Demonstrators protest in solidarity with Palestinians in Gaza, amid the ongoing conflict between Israel and the Palestinian Islamist group Hamas, in London, Britain, October 28, 2023. REUTERS/Susannah Ireland

برطانیہ میں غزہ اور اسرائیلی جنگ کے تناظر میں اسلام اور مسلم دشمنی کے واقعات تین گنا تک بڑھ گئےہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پچھلے چار ماہ کے دوران 2010 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ چار ماہ میں پیش آنے والے ایسے واقعات برطانوی تاریخ میں سب سےزیادہ بتائے گئے ہیں۔

واضح رہے 2022 اور 2023 کے دوران کل 600 واقعات ہوئے تھے۔ اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں اسلام دشمنی کے واقعات میں 335 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس بارے میں رپورٹ مرتب کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر ایمان عطا کا کہنا ہے ‘ ہمیں گہری تشویش ہے اسرائیلی کی غزہ جنگ کے برطانوی سماج پر گہرے اثرات ہو رہے ہیں اور نفرت پر مبنی جرائم ہو رہے ہیں۔

ایمان عطا نے کہا ‘ مسلم مخالف نفرت میں یہ اضافہ ناقابل قبول ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ سیاسی رہنما یہ واضح پیغام دینے کے لیے بات کریں گے کہ ہمارے ملک میں یہود دشمنی کی طرح مسلم دشمنی بھی ناقابل قبول ہے’

ایمان عطا نے کہا ‘ ان چار ماہ کے دوران صرف لندن شہر میں مسلم دشمنی کے 901 آف لائن کے واقعات سامنے آئے ہیں جبکہ مسلم دشمنی کے 1109 واقعات آن لائن ہوئے ہیں۔ ‘ ان واقعات میں مسلمانوں کے خلاف گالیاں، دھمکیاں، بدسلوکی کے واقعات، توڑ پھوڑ، امتیاز پر مبنی سلوک، نفرت انگیز تقریریں اور مسلمانوں کی مخالفت پر مبنی لٹریچر شامل تھے۔

برطانیہ سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے چار ماہ کے دوران 65 فیصد معاملات میں مسلمان خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب اس ماہ کے شروع میں، ایک یہودی خیراتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ برطانیہ میں گزشتہ سال سات اکتوبر کے بعد سے یہود مخالف واقعات میں ‘ سی ایس ٹی ‘ کے مطابق یہود مخالف واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

اس ادارے کے مطابق 2023 میں 4,103 “یہودی مخالف نفرت انگیز واقعات” ریکارڈ کیے، جو 1984 میں ان کی گنتی شروع کرنے کے بعد سے اس کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2022 میں ریکارڈ کیے گئے 1,662 واقعات میں 147 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *