April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Firefighters try to douse a fire that broke out in a clothing market in Dhaka, Bangladesh, April 4, 2023. (Reuters)

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں جمعرات کی رات ایک مہنگے علاقے میں واقع ایک سات منزلہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھنے سے کم از کم 48 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

بنگلہ دیش کے وزیر صحت سمنتا لال سین نے ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال اور اس سے ملحقہ برن ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد اے ایف پی کو بتایا کہ آتشزدگی سے اب تک 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بعد ازاں پولیس انسپکٹر بچو میا نے بتایا کہ ڈھاکہ کے مرکزی پولیس ہسپتال میں ایک اور شخص کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 44 ہو گئی ہے۔

وزیر صحت سین نے بتایا کہ شہر کے مرکزی برن ہسپتال میں کم از کم 40 زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سب کی حالت نازک ہے۔

فائر ڈپیارٹمنٹ کے ایک عہدے دار محمد شہاب نے بتایا کہ آگ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے کے قریب ڈھاکہ کی بیلی روڈ کے ایک مشہور بریانی ریسٹورنٹ سے شروع ہوئی، اور تیزی سے اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی، جس سے کئی لوگ عمارت میں پھنس گئے۔

انہوں نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے دو گھنٹے کی جدو جہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے 75 افراد کو زندہ بچا لیا۔ فائر حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں شبہ ہے کہ آگ ریستوران میں گیس سلنڈر کے دھماکے سے لگی۔

ایک فائر آفیسر نے، جس نے اپنا نام نہیں بتایا، کہا کہ میں تیزی سے اوپر کی منزل پر گیا کیونکہ عمارت کی تقریباً تمام منزلوں میں ریستوران تھے، جو پکانے کے لیے گیس کے سلنڈر استعمال کرتے ہیں۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

بیلی روڈ کی اس عمارت میں زیادہ تر ریستوراں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کپڑوں اور موبائل فونز کی متعدد دکانیں بھی ہیں۔

ریسٹورنٹ کے مینیجر سہیل نے بتایا کہ جب ہم نے پہلی بار سیڑھیوں سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا تو ہم چھٹی منزل پر تھے ۔اس وقت بہت سے لوگوں نے اوپر کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عمارت سے نیچے اترنے کے لیے پانی کے پائپ کا سہارا لیا۔ اور کچھ لوگوں نے نیچے چھلانگیں لگائیں جس سے وہ زخمی ہو گئے، جب کہ بہت سے دوسرے لوگ چھت پر پھنس گئے اور مدد کے لیے پکارنے لگے۔

ماحولیاتی سائنس کے ایک پروفیسر قمرالزمان نے اپنی فیس بک پوسٹ پر لکھا کہ ہم اپنی خواتین اور بچوں کو، جن میں میری بیوی اور بچے بھی شامل ہیں، نیچے بھیج رہے ہیں۔ جب کہ ہم مرد چھت پر جمع ہیں۔ فائر سروس کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ پچاس لوگوں کو ابھی نیچے جانا ہے۔ بعد میں انیں بحفاظت بچا لیا گیا۔

جولائی 2021 میں ایک فوڈ پروسیسنگ فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 52 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ فروری 2019 میں، ڈھاکہ کے اپارٹمنٹ بلاکس کی عمارت میں آگ لگنے سے 70 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *