April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Pro-Palestinian demonstrators rally outside the Israeli embassy to call for a ceasefire in Gaza, amid the ongoing conflict between Israel and the Palestinian militia group Hamas, during a protest in Washington, U.S., March 2, 2024. (Reuters)

رائٹرز کے ملاحظہ کردہ متن کے مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے منگل کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مسودے میں زبان پر نظرِ ثانی کی ہے جس میں “غزہ میں تقریبا چھ ہفتوں کی فوری جنگ بندی کے ساتھ ساتھ تمام یرغمالیوں کی رہائی” کی حمایت کی گئی ہے۔

متن کی تیسری نظرِ ثانی جو پہلی بار دو ہفتے قبل امریکہ کی طرف سے تجویز کی گئی تھی، اب نائب صدر کملا ہیرس کے دو ٹوک ریمارکس کی عکاسی کرتی ہے۔ ابتدائی امریکی مسودے میں اسرائیل-حماس جنگ میں “عارضی جنگ بندی” کی حمایت ظاہر کی گئی تھی۔

امریکہ چاہتا ہے کہ جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل کی کسی بھی حمایت کا تعلق غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی سے ہو۔ حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 253 یرغمال بنائے گئے۔

واشنگٹن لفظ جنگ بندی کا مخالف تھا۔

اس نے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے دوران سلامتی کونسل کی تین مسودہ قراردادوں کو ویٹو کر دیا ہے جن میں سے دو میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حال ہی میں امریکہ نے یہ کہہ کر اپنے ویٹو کا جواز پیش کیا کہ کونسل کی اس طرح کی کارروائی امریکہ، مصر اور قطر کی طرف سے جنگ میں وقفے اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

وفود نے تیسرے دن بات چیت کی جس میں کسی پیش رفت کے آثار نہیں تھے تو امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز کہا کہ یہ حماس کے ہاتھ میں ہے آیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرے۔

امریکہ روایتی طور پر اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کو تحفظ دیتا ہے لیکن اس نے دو بار اس سے پرہیز بھی کیا جس سے کونسل کے لیے ایسی قراردادیں منظور کرنا ممکن ہوا جن کا مقصد غزہ کی امداد کو بڑھانا تھا اور ان میں لڑائی میں توسیع شدہ وقفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں حماس پر فوجی حملہ کیا جس کے صحت کے حکام کہتے ہیں کہ اس حملے میں 30,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور ہزاروں مزید لاشیں کھنڈرات اور ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

واشنگٹن اپنے اتحادی اسرائیل پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی اجازت دینے کے لیے مزید اقدامات کرے جہاں اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ انکلیو میں موجود 2.3 ملین افراد میں سے ایک چوتھائی قحط کے دہانے پر ہیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے مسودے پر مذاکرات کے لیے وقت دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور ووٹنگ میں جلدی نہیں کرے گا۔ قرارداد کی منظوری کے لیے اس کے حق میں کم از کم نو ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس یا چین کی طرف سے کوئی ویٹو نہیں ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *