April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/rubbernurse.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
سد

بھارت کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہفتے کی شب نمازِ تراویح کے دوران ایک مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر حملہ کرکے پانچ غیر ملکی طلبہ کو زخمی کر دیا ہے۔

زخمیوں کا تعلق افغانستان، سری لنکا، ازبکستان اور ساؤتھ افریقہ سے ہے۔ احمد آباد کے پولیس کمشنر جی ایس ملک کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کی رات کو اس وقت پیش آیا جب تقریباً 20 سے 25 لوگ احمد آباد میں گجرات یونیورسٹی کے ہاسٹل کے احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں نماز ادا کرنے والے مذکورہ طالب علموں پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں مسجد میں نماز ادا کرنے کا کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی درمیان ایک ہجوم جو کہ لاٹھیوں اور چاقوؤں سے لیس تھا، ہاسٹل میں گھس آیا اور اس نے طلبہ پر حملہ کر دیا اور ان کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے سیکیورٹی گارڈ نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔

افغانستان کے ایک طالب علم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہجوم نعرے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم کو ہاسٹل میں نماز پڑھنے کی اجازت کس نے دی؟ طلبہ نے بتایا کہ نصف گھنٹے کے بعد پولیس پہنچی اور تب تک حملہ آور وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔ زخمی طلبہ کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے متعلقہ سفارت خانوں کو اس واقعے کی اطلاع دے دی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ٹوٹی ہوئی بائیک اور لیپ ٹاپ اور کمروں میں توڑ پھوڑ دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض ویڈیوز میں لوگوں کو ہاسٹل کی جانب پتھراؤ کرنے اور طلبہ کو گالیاں دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز میں غیر ملکی طلبہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ خوف زدہ ہیں اور جو کچھ ہوا وہ نا قابلِ قبول ہے۔

ایک ویڈیو میں بھیڑ میں شامل ایک نوجوان سکیورٹی گارڈ سے کہہ رہا ہے کہ وہ ہاسٹل میں نماز کیوں پڑھ رہے ہیں۔ کیا وہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق طلبہ کا کہنا ہے کہ کیمپس میں کوئی مسجد نہیں ہے اس لیے وہ لوگ ہاسٹل کے اندر نماز تراویح ادا کر رہے تھے۔

احمد آباد کے پولیس کمشنر جی ایس ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قصور واروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق گجرات یونیورسٹی میں مختلف کورسز میں 300 غیر ملکی طلبہ کا داخلہ ہوا ہے جن میں سے 75 طلبہ مذکورہ ہاسٹل کے اے بلاک میں مقیم ہیں۔

انہوں نے اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کی رات ساڑھے دس بجے طلبہ کا ایک گروپ نماز پڑھ رہا تھا کہ 20 سے 25 افراد آئے اور کہنے لگے کہ وہ ہاسٹل میں نماز کیوں پڑھ رہے ہیں؟ مسجد میں جا کر نماز پڑھیں۔

ان کے بقول اس پر ان میں تلخ کلامی ہوئی اور باہر سے آنے والے ان لوگوں نے پتھراؤ کیا جب کہ طلبہ کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں زخمیوں میں سے ایک کو طبی امداد دیے جانے کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) زون سیون ترون دگل نے بتایا کہ ’احمد آباد کے دو رہائشیوں ہتیش میوادہ اور بھارت پٹیل کو انڈیا کے ضابطہ فوجداری کی مختلف دفعات جن میں 143 (غیر قانونی اجتماع)، 147 (فساد)، 323 (دانستہ نقصان پہنچانا)، 324 (خطرناک ہتھیاروں کی مدد سے دانستہ نقصان پہنچانا)، 337 (نقصان دہ عمل کے ذریعے دوسروں کی جان اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنا) اور 447 (حد سے تجاوز کرنا) شامل ہیں، کے تحت گرفتار کیا گیا۔‘

گجرات یونیورسٹی کی وائس چانسلر نیرجا گپتا نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’چوں کہ طلبہ کا تعلق دوسرے ملکوں سے ہے اس لیے انہیں ’ثقافتی حساسیت‘ کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔’یہ غیر ملکی طلبہ ہیں اور جب آپ بیرون ملک جاتے ہیں تو آپ کو ثقافتی حساسیت سیکھنی چاہیے۔‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اس واقعے کی مذمت کی اور وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ سے سوال کیا کہ کیا وہ اس معاملے میں مداخلت کریں گے؟

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ یہ شرم ناک واقعہ ہے جب مسلمان پر امن طریقے سے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں تو ان لوگوں کی مذہبیت بیدار ہو جاتی ہے۔ مذہبی نعرے باہر آ جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ انتہا پسندی نہیں ہے۔ گجرات مودی اور امت شاہ کی آبائی ریاست ہے تو کیا وہ اس معاملے میں مداخلت کریں گے؟

ادھر بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ گجرات کی ریاستی حکومت نے تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ وزارتِ خارجہ ریاستی حکومت کے رابطے میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *